Life Style

کراچی میں فلیٹ سے اداکارہ حمیرا اصغر کی کئی روز پُرانی لاش برآمد

The dead body of actress Humira Asghar was found in a flat in Karachi

کراچی کے علاقے ڈیفنس کے ایک فلیٹ سے اداکارہ اور ماڈل حمیرا اصغر علی کی کئی دن پرانی لاش ملی ہے، تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ حتمی شناخت ڈی این اے ٹیسٹ سے ہی ممکن ہو سکے گی۔

تھانہ گِزری کی پولیس نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ڈیفنس فیز چھ کے اتحاد کمرشل کے ایک فلیٹ سے اداکارہ کی لاش ملی جس کو قانونی اور ضابطے کی کارروائی کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا۔

لاش ہسپتال منتقل کرنے والے ریسکیو اہلکاروں کے مطابق لاش دیکھ کر اُن کا اندازہ ہے کہ خاتون کی موت کو کئی روز گزر چکے ہیں۔

پولیس کے مطابق لاش عمارت کے چوتھے فلور پر واقع فلیٹ سے ملی ہے۔

متوفیہ حمیرا اصغر علی کا تعلق لاہور سے بتایا جاتا ہے اور وہ ڈیفنس میں کرائے کے فلیٹ میں مقیم تھیں۔

ایس ایس پی ساؤتھ مہظور علی کے مطابق فلیٹ کے مالک نے کرایہ ادا نہ کرنے پر اداکارہ کے خلاف عدالت سے رجوع کیا تھا اور منگل کی شام جب عدالتی حکم پر بیلف کے ہمراہ پولیس اہلکار دروازہ توڑ کر فلیٹ میں داخل ہوئے تو وہاں ایک ناقابل شناخت لاش ملی۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ فلیٹ کو سیل کر کے شواہد اکٹھے کیے ہیں اور واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔

علاقہ مکینوں کے مطابق متوفیہ مذکورہ فلیٹ میں سات برس سے مقیم تھیں۔

ایس ایس پی نے کہا کہ لاش کئی روز پرانی ہونے کے باعث اس کی حتمی شناخت ممکن نہیں، ڈی این اے سیمپلز کی مدد سے ہی شناخت ممکن ہوسکے گی۔

’سوشل میڈیا پر موجود تصاویر دیکھ کر کہنا مشکل ہے یہ لاش اسی خاتون کی ہے، اب تک خاتون کا کوئی بھی قریبی عزیز سامنے نہیں آیا۔‘

حمیرا اصغر علی نے 2022 میں اے آر وائی ڈیجیٹل کے ریئلٹی شو ’تماشا گھر‘ میں شرکت کی تھی۔

The dead body of actress Humira Asghar was found in a flat in Karachi
The dead body of actress Humira Asghar was found in a flat in Karachi

*”خوددار عورت… لاوارث میت”*
`از قلم: لقمان اختر`

سناٹے سے گونجتا کمرہ، بند دروازے کے پیچھے مہینوں سے خاموش پڑی لاش، اور آس پاس نہ کوئی آنکھ اشک بار، نہ کوئی ماتم، نہ کوئی دعا۔ بس دیواریں تھیں، جو چیخ چیخ کر اس عورت کی تنہائی کی گواہ تھیں، جو کبھی اپنی خودمختاری پر نازاں تھی، جس نے رشتوں کے ریشمی بندھنوں کو آزادی کی زنجیر سمجھ کر توڑ دیا، جو فیمینزم کے افیون سے مدہوش ہو کر اپنے خاندان، بھائی، باپ، اور سب سے بڑھ کر اپنے رب سے بھی روٹھ گئی تھی۔

“*اداکارہ حمیرا اصغر”* ایک خوبصورت چہرہ، ایک آزاد “*عورت، ایک مشہور نام”* لیکن کیا واقعی وہ کامیاب تھی؟
پولیس اہلکار جب اس کے بھائی کو فون کرتا ہے تو جواب ملتا ہے:
*”اس کے والد سے بات کریں”*
اور جب والد کو فون کیا جاتا ہے تو ایک باپ کی زبان سے نکلتا ہے:
*”ہمارا اس سے کوئی تعلق نہیں، ہم بہت پہلے اس سے ناطہ توڑ چکے، لاش ہے تو جیسے چاہو دفناؤ”*
فون بند ہو جاتا ہے، مگر سوال کھلا رہ جاتا ہے کہ وہ کون سی زندگی تھی جو باپ کے دل کو اتنا سخت کر گئی؟ وہ کون سا راستہ تھا جو بھائی کی غیرت کو خاموش کرا گیا؟ وہ کون سی سوچ تھی جس نے ایک جیتے جاگتے وجود کو مہینوں لاش بنا کر سڑنے کے لیے چھوڑ دیا؟

یہ محض ایک واقعہ نہیں، یہ فیمینزم کی وہ بھیانک تصویر ہے، جو اشتہارات میں خوشنما، تقاریر میں متاثرکن، اور سوشل میڈیا پر انقلابی لگتی ہے، مگر اندر سے کھوکھلی، تنہا اور اندھیرے سے لبریز ہوتی ہے۔
فیمینزم کا آغاز عورت کے حقوق سے ہوا، مگر انجام اس کی تنہائی پر ہو رہا ہے۔
فیمینزم نے عورت کو ماں، بیٹی، بہن اور بیوی کے مقدس رشتوں سے نکال کر صرف *”خود”* بنا دیا اور یہی *”خود”* آخرکار اُسے اکیلا کر گیا۔

خاندان کا ادارہ، جسے صدیوں کی تہذیب نے پروان چڑھایا، جس میں قربانیاں، محبتیں، ناراضگیاں، مان، اور رشتہ داریوں کی حرارت موجود تھی، اسے آج کی عورت نے “زنجیر” سمجھ کر کاٹ دیا۔ اور جب وقت کی تیز دھوپ نے جلایا، تو کوئی سایہ دار درخت ساتھ نہ تھا۔
فیس بک کی دوستیں، انسٹاگرام کے فالورز، ٹوئٹر کی آزادی کے نعرے, سب خاموش تھے۔
باپ کا دروازہ بند تھا، بھائی کا دل پتھر ہو چکا تھا، اور ماں شاید برسوں پہلے رو رو کر مر چکی تھی۔

عجیب معاشرہ ہے یہ بھی، جہاں اگر بیٹی نافرمان ہو تو باپ ظالم کہلاتا ہے، اور اگر باپ لاتعلق ہو جائے تو بیٹی کی خودمختاری کا جشن منایا جاتا ہے۔
عورت جب گھر سے نکلے، تو “طاقتور” کہلاتی ہے،
جب طلاق لے، تو “باہمت” بن جاتی ہے،
جب رشتے توڑے، تو “بغاوت” نہیں بلکہ “خود شعوری” قرار پاتی ہے۔
اور جب مر جائے، تنہا، بوسیدہ لاش کی صورت،
تو سارا معاشرہ خاموش تماشائی بن جاتا ہے۔

کاش حمیرا اصغر نے جانا ہوتا کہ فیمینزم، ماں کی گود جیسا تحفظ نہیں دے سکتا۔
کاش وہ سمجھ پاتی کہ باپ کی ڈانٹ، محبت کی ایک گونج ہوتی ہے، اور بھائی کی غیرت، عزت کی چادر ہوتی ہے۔
کاش وہ جان پاتی کہ مرد دشمنی کا نام عورت دوستی نہیں، بلکہ یہ فکری گمراہی ہے جو عورت کو اس کے رب، اس کے دین، اور اس کی فطرت سے کاٹ دیتی ہے۔

عورت مضبوط ضرور ہو، خودمختار بھی ہو، لیکن وہ اپنے اصل سے جُڑی رہے,
وہ ماں کا پیار، باپ کی شفقت، بھائی کی غیرت، اور شوہر کی رفاقت کو بوجھ نہ سمجھے۔
ورنہ فیمینزم کی راہ میں جو منزل ہے، وہ تنہائی، بے رُخی، اور بے گور و کفن لاش ہے۔

حمیرا اصغر چلی گئی,
لیکن فیمینزم کی دُھند میں گُم اور کتنی بیٹیاں ایسی ہی گم ہو رہی ہیں,
بس ہمیں تب ہوش آتا ہے،
جب تعفن زدہ لاش دیواروں سے سوال کرنے لگتی ہے۔۔۔
*”آزادی چاہیے تھی نا؟ لے لو… مگر اب میرے پاس کوئی نہیں!”*💔💔💔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button